1 جولائی 2011 - 19:30

ایک وہابی مفتی نے تارک الصلواة افراد اور ایسے افراد کے سامنے انسان کے دینی فریضے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دعوی کیا: ان افراد کو اپنے آپ سے دور رکھو اور اگر توبہ نہ کریں تو انہیں قتل کردو۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وہابی مفتی کے تازہ ترین فتاوی میں کہا گیا ہے کہ نماز ترک کرنے والے افراد کو اپنے آپ سے دور کیا جائے اور اگر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کو قتل کرنا واجب ہے۔ انھوں نے تارک الصلواة شخص کا قتل واجب قرار دیا۔ آل سعود سے وابستہ نیٹ ورک العربیہ کی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ حال ہی میں شیخ صالح الفوزان کی ویب سائٹ پر ایک فتوی کے بموجب تارک الصلواة شخص کا قتل واجب ہے۔ العربیہ نے لکھا: اس فتوے کی تاریخ دسمبر 2009 ہے جس میں پوچھا گیا ہے کہ اگر کسی کا رفیق کار نماز ترک کرتا ہو تو اس کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھنا چاہئے لیکن شیخ کے حامیوں نے یہ فتوی حالیہ ایام میں ایک بار پھر وسیع سطح پر شائع کردیا ہے۔ صالح الفوزان جو سعودی عرب کے اعلی علماء بورڈ کے رکن بھی ہیں نے اس استفتاء کے جواب میں لکھا ہے کہ: جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس حدیث کی روشنی میں کہ "بندگی اور کفر کے درمیان نماز واقع ہوئی ہے"، مسلمان نہیں ہے اور قرآن و سنت میں تارک الصلاة کے کافر ہونے پر دلائل بکثرت موجود ہیں۔ان سے پوچھا گیا ہے کہ "ہم تارک الصلاة شخص کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کریں" اور انھوں نے جواب میں لکھا ہے: "اسے دور کردینا چاہئے بلکہ اگر اس نے توبہ نہ کی اور نماز ادا نہ کی تو اس کو قتل کرنا واجب ہے ... اسے توبہ کرنا چاہئے اور اگر توبہ کرنے سے انکار کیا اور نماز ترک کردی تو اسے قتل کیا جائے گا... ایسے شخص کو روزگار دینا اور بھرتی کرنا بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ کفار کو مسلمانوں کے امور پر ولایت حاصل نہیں ہے اور دوسروں کے لئے بھی نمونہ عمل بن جاتے ہیں۔انھوں نے اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا کہ سیاسی امور میں آل سعود کی حکومت امریکہ اور اسرائیل کے تمام منصوبے کیوں نافذ کرتی ہے؛ کیا پورے اسلامی ملک اور حرمین شریفین پر امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کو ولایت حاصل ہے؟شیخ صالح الفوزان 28 ستمبر 1935 کو پیدا ہوئے ہیں؛ سعودی عرب کے اعلی علماء بورڈ، مکہ مکرمہ کے فقہی فورم، تبلیغات حج کی نگران کمیٹی اور علمی تحقیقات اور استفتائات کی دائمی کمیٹی کے رکن اور الملز کے علاقے میں مسجد جامع شہزادہ متعب بن عبدالعزیز آل سعود کے امام و مدرس ہیں۔اس سی قبل بھی وہابی مفتیوں نے عجیب فتوے دیئے ہیں انھوں نے اسرائیل کے خلاف حماس کی حمایت کو حرام قرار دیا، عورتوں کی ڈرائیونگ کو حرام قرار دیا، جلیبی کو حرام قرار دیا، زعفران کو منشیات قرار دیا اور متعدد ایسے فتوے د‏یئے جو دنیائے اسلام کی جگ ہنسائی کا باعث بنے جبکہ یورپ اور امریکہ میں قرآن اور اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین ہوئی لیکن ان کی طرف سے کوئی فتوی صادر نہیں ہوا کیونکہ وعاظ السلاطین کو اسلام کی بجائے سلاطین کے مفادات زیادہ عزیز ہوتے ہیں اور سعودی سلاطین اہل مغرب کے وفادار غلام ہیں اور اس حقیقت سے خود سعودی سلاطین بھی انکار نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

آل سعود سے وابستہ وعاظ السلاطین یا وہابی مفتیوں کے عجیب فتوے- تکفیری مفتیوں کے خلاف قانونی کاروائی - سعودی مفتی: دہشت گرد شیطان کے پیروکار ہيں / الفوزان کے فتوے / اپڈیٹ - شيخ الازہر نے وہابی مفتی کی شیعہ مخالف درخواست مسترد کردی - سعودی کھلاڑیوں نے وہابی مفتی کے فتوے کو نظر اندازکیا - وہابیوں کی انتہاپسندانہ کارکردگی پر اعلی وہابی مفتی کا اظہار افسوس - سعودی عرب کے وہابی مفتی: گاڑی چلانے والی عورتوں کو مرجانا چاہیے - مرد ـ عورت کی جدائی کے مخالفین کو پھانسی پر لٹکایا جائے - سعودی شہریوں کا وہابی مفتیوں سے اعتماد اٹھ گیا - جلیبی کھانا حرام ہے/ مشروط طور پر حرام نہیں ہے! - «مِکی ماؤس» مرتد ,اس کا خون بہانا حلال:وہابی مفتی - "رضاعۃ الکبیر"؛ سعودی مفتی کا متنازعہ فتوی - وہابی مفتی کا عجیب فتوی: "باپ کو بیٹی کے ساتھ تنہا نہیں رہنا چاہئے"